ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست میں انتخابی سرگرمیوں کے شدت اختیار کرنے کا امکان،مودی اور راہول گاندھی کے کرناٹک دوروں سے سیاسی ہلچل یقینی

ریاست میں انتخابی سرگرمیوں کے شدت اختیار کرنے کا امکان،مودی اور راہول گاندھی کے کرناٹک دوروں سے سیاسی ہلچل یقینی

Fri, 20 Oct 2017 23:24:59    S.O. News Service

بنگلورو،20اکتوبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)آنے والے اسمبلی انتخابات کو مدنظررکھتے ہوئے دیوالی تہوار کے فوراً بعدریاست کی تینوں سیاسی جماعتوں کانگریس ، بی جے پی اور جنتادل (ایس) کی طرف سے بڑے پیمانے پر تیاریوں کی شروعات کی جارہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے قومی لیڈران رواں ماہ سے ہی ریاست کے دوروں کا سلسلہ شروع کررہے ہیں ، وزیر اعظم مودی 29اکتوبر کو ریاست کے دورہ پر آرہے ہیں، جبکہ 19؍نومبر سے تین دن تک اے آئی سی سی نائب صدر راہول گاندھی ریاست میں تین دن قیام کریں گے۔ دوسری طرف جنتادل (ایس) ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی جو قلب کے آپریشن کے بعد ابھی صحت یاب ہوئے ہیں ،نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریاست گیر دورہ شروع کررہے ہیں۔ تینوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے اگلے انتخابات میں اپنے اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے پوری جدوجہد کی جارہی ہے۔ خاص طور پر جنتادل (ایس) میں آٹھ اراکین اسمبلی کی بغاوت کے بعد ریاست میں پارٹی کا وجود بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ مرکز میں اقتدار کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی ریاست میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی قیادت میں کانگریس ریاست کے اقتدار پر برقرار رہنے کیلئے پوری جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ دیوالی تہوار کے بعد ریاست میں پارٹی بدلی کا سلسلہ بھی شدت اختیار کرسکتا ہے۔ شمالی کرناٹک میں پارٹی بدلی کا سلسلہ زور پکڑ سکتا ہے ، کیونکہ اس علاقہ کے بعض کانگریس اراکین اسمبلی ریاستی وزارت میں نمائندگی نہ ملنے پر ناخوش ہیں اور بی جے پی کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں تو دوسری طرف دوبارہ یڈیورپا کو ریاستی بی جے پی صدر منتخب کئے جانے سے ناراض لنگایت طبقہ کے لیڈران بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں آنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے بھی حال ہی میں یہ اشار ہ دیا کہ 20 سے زائد بی جے پی اراکین اسمبلی عنقریب کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔ خاص طور پر یڈیورپا اور ایشورپا کے درمیان اختلافات کے سبب پریشان بی جے پی کیلئے اراکین اسمبلی کو دوسری پارٹیوں کی طرف جانے سے روکنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ رام نگرم ضلع میں وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کے سیاسی غلبہ سے پریشان رکن اسمبلی سی پی یوگیشور نے کانگریس کو خیر باد کہتے ہوئے اگلے ماہ بی جے پی میں شمولیت کا واضح اشارہ دیا ہے تو دوسری طرف جنتادل (ایس) بھی انہیں اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہی ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ دسمبر کے دوران ہونے والے گجرات اسمبلی انتخابات کے نتیجہ کا ہر ایک کو انتظار ہے۔ ان نتائج میں اگر کانگریس کا پلڑا بھاری رہا تو کرناٹک میں بھی کانگریس کی برتری یقینی بتائی جارہی ہے، اگر وزیر اعظم مودی اپنی ریاست میں پارٹی کے اقتدار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو کرناٹک میں بی جے پی کا پلڑا بھاری پڑ سکتا ہے۔


Share: